علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
| انٹر میڈیٹ | سمسٹر: بہار 2025 | ||||||||||||
| پرچہ: اردو لازمی (364) | کل نمبر: 100 | ||||||||||||
| وقت: 3 گھنٹے | کامیابی کے نمبر: 40 |
نوٹ: کوئی سے پانچ سوالوں کے جوابات تحریر کریں۔
i. مضمون وطن و ملت کے اہم نکات بیان کریں۔
ii. مضمون سچ اور جھوٹ کا رزم نامہ میں مصنف کس بنیادی نکتے پر روشنی ڈالنا چاہتا ہے؟ ▶
تمہید: اردو نثر میں شخصیت نگاری کی اہمیت
اردو نثر کی مختلف اصناف میں شخصیت نگاری کو ایک خاص اور منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ صنف محض کسی فرد کے حالاتِ زندگی بیان کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے فکری، ذہنی، اخلاقی اور جذباتی پہلوؤں کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ شخصیت نگاری کے ذریعے قاری کسی عظیم انسان کو صرف تاریخی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ ایک جیتے جاگتے انسان کے طور پر محسوس کرتا ہے۔ اسی صنف نے اردو ادب کو ایسے یادگار خاکے عطا کیے جن میں شخصیات اپنے اوصاف، کمزوریوں اور انفرادیت کے ساتھ زندہ نظر آتی ہیں۔ چراغ حسن حسرت کا مضمون "علامہ اقبال" اسی روایت کی ایک اہم کڑی ہے جس میں انہوں نے اقبال کی شخصیت کو نہایت دلکش اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔
شخصیت نگاری کی تعریف اور مفہوم
شخصیت نگاری ایسی نثری صنف ہے جس میں کسی فرد کی شخصیت کو اس کے باطنی اور ظاہری اوصاف کے ساتھ قلم بند کیا جاتا ہے۔ اس میں سوانحی حقائق، ذاتی مشاہدات، تاثرات اور تجزیے شامل ہوتے ہیں۔ شخصیت نگار کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں ہوتا بلکہ وہ قاری کے سامنے شخصیت کی مکمل تصویر رکھنا چاہتا ہے۔ ایک کامیاب شخصیت نگاری وہ ہوتی ہے جس میں فرد کے کردار، عادات، سوچ، مزاج اور طرزِ عمل کو متوازن انداز میں پیش کیا جائے، تاکہ شخصیت یک رُخی نہ ہو بلکہ اپنی پوری معنویت کے ساتھ ابھر کر سامنے آئے۔
شخصیت نگاری اور خاکہ نگاری کا تعلق
اردو ادب میں شخصیت نگاری اور خاکہ نگاری کو اکثر ایک دوسرے کے قریب سمجھا جاتا ہے، مگر دونوں میں باریک سا فرق موجود ہے۔ خاکہ نگاری میں عام طور پر شخصیت کا مختصر اور تاثراتی تعارف ہوتا ہے، جب کہ شخصیت نگاری میں گہرائی، تجزیہ اور فکری وسعت زیادہ ہوتی ہے۔ شخصیت نگاری میں مصنف کی سنجیدگی اور مشاہدے کی قوت زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ چراغ حسن حسرت کا مضمون "علامہ اقبال" خاکہ نگاری کی شگفتگی اور شخصیت نگاری کی گہرائی دونوں کو یکجا کرتا ہے، جو اسے خاص طور پر اہم بنا دیتا ہے۔
شخصیت نگاری کی فنی خصوصیات
ایک عمدہ شخصیت نگاری کے لیے چند فنی عناصر ضروری ہوتے ہیں۔ ان میں مصنف کا ذاتی مشاہدہ، غیر جانب داری، اسلوب کی دلکشی، واقعات کا بامعنی انتخاب اور شخصیت کے باطنی اوصاف کی عکاسی شامل ہے۔ شخصیت نگار کو نہ تو محض تعریف میں مبالغہ کرنا چاہیے اور نہ ہی تنقید میں سختی، بلکہ اعتدال کے ساتھ شخصیت کی حقیقی تصویر پیش کرنی چاہیے۔ یہی اعتدال شخصیت نگاری کو معتبر اور مؤثر بناتا ہے۔
چراغ حسن حسرت: اسلوب اور مزاج
چراغ حسن حسرت اردو نثر کے ایک ممتاز اور شگفتہ اسلوب کے حامل ادیب تھے۔ ان کی تحریر میں روانی، لطافت اور شائستہ طنز نمایاں ہے۔ وہ کسی شخصیت کو خشک اور رسمی انداز میں پیش نہیں کرتے بلکہ اسے انسانی رنگوں کے ساتھ اجاگر کرتے ہیں۔ ان کا انداز نہایت متوازن ہے، جہاں احترام بھی ہے اور بے تکلفی بھی۔ یہی خصوصیت ان کے مضمون "علامہ اقبال" کو محض تعارفی تحریر نہیں بلکہ ایک جاندار شخصیت نگاری بنا دیتی ہے۔
مضمون علامہ اقبال کا مجموعی تاثر
چراغ حسن حسرت کا مضمون "علامہ اقبال" محض ایک عظیم شاعر اور مفکر کا تعارف نہیں بلکہ ایک انسان اقبال کی تصویر ہے۔ وہ اقبال کو فلسفی یا قومی شاعر کے بلند منصب پر بٹھا کر دور سے نہیں دیکھتے بلکہ قریب آ کر ان کی عادات، گفتگو، نشست و برخاست اور مزاج کو بیان کرتے ہیں۔ اس قربت کی وجہ سے قاری کو اقبال ایک عظیم شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سادہ اور سنجیدہ انسان بھی نظر آتے ہیں۔
ظاہری خدوخال کی عکاسی
چراغ حسن حسرت نے اپنے مضمون میں علامہ اقبال کے ظاہری خدوخال کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ اقبال کی وضع قطع، چہرے کے تاثرات اور مجموعی شخصیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری کے ذہن میں ایک واضح تصویر ابھر آتی ہے۔ یہ ظاہری بیان محض سطحی نہیں بلکہ شخصیت کے باطنی وقار اور سنجیدگی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے، جس سے اقبال کی شخصیت مزید باوقار نظر آتی ہے۔
اقبال کی سنجیدگی اور وقار
مضمون میں علامہ اقبال کی سنجیدہ طبیعت کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ چراغ حسن حسرت بتاتے ہیں کہ اقبال عام گفتگو میں بھی متانت اور وقار کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ ان کی گفتگو میں نپا تلا انداز، ٹھہراؤ اور فکری گہرائی ہوتی تھی۔ حسرت نے اس سنجیدگی کو کسی بوجھ کے طور پر نہیں بلکہ اقبال کی شخصیت کے حسن کے طور پر پیش کیا ہے، جو ان کے فکری مرتبے سے مکمل ہم آہنگ ہے۔
اقبال کی گفتگو اور فکری جہت
چراغ حسن حسرت علامہ اقبال کی گفتگو کے انداز کو خاص طور پر نمایاں کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اقبال کم گو تھے مگر جب بولتے تو بات میں وزن اور معنویت ہوتی تھی۔ ان کی گفتگو فلسفے، ادب اور زندگی کے عمیق تجربات سے بھرپور ہوتی تھی۔ حسرت نے اقبال کی گفتگو کو شخصیت کے ایک اہم خدوخال کے طور پر پیش کر کے ان کے فکری قد کاٹھ کو واضح کیا ہے۔
سادگی اور خودداری
مضمون "علامہ اقبال" میں اقبال کی سادگی اور خودداری کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا ہے۔ چراغ حسن حسرت کے مطابق اقبال شہرت اور عظمت کے باوجود نمود و نمائش سے دور رہتے تھے۔ ان کی زندگی میں سادگی ایک اصول کی حیثیت رکھتی تھی۔ حسرت اس سادگی کو اقبال کی عظمت کے منافی نہیں بلکہ اس کی بنیاد قرار دیتے ہیں، جس سے شخصیت کا وقار اور نکھر کر سامنے آتا ہے۔
مزاح سے دور مگر خوش اخلاق انسان
چراغ حسن حسرت نے یہ پہلو بھی اجاگر کیا ہے کہ اقبال فطری طور پر زیادہ مزاح پسند نہیں تھے، مگر اس کے باوجود ان کا رویہ خشک یا سخت نہیں تھا۔ وہ خوش اخلاق، شائستہ اور دوسروں کا احترام کرنے والے انسان تھے۔ اس بیان سے اقبال کی شخصیت کا ایک متوازن اور انسانی پہلو سامنے آتا ہے، جو انہیں محض ایک سنجیدہ مفکر نہیں بلکہ ایک مہذب انسان بھی ثابت کرتا ہے۔
ذاتی مشاہدے کی اہمیت
چراغ حسن حسرت کے مضمون کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ محض سنی سنائی باتوں پر انحصار نہیں کرتے بلکہ اپنے ذاتی مشاہدات اور تجربات کو بنیاد بناتے ہیں۔ یہی ذاتی مشاہدہ مضمون کو صداقت اور تاثیر عطا کرتا ہے۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ تصویر کسی دور سے بنائی گئی نہیں بلکہ قریب سے دیکھی اور سمجھی گئی ہے۔
اسلوب کی سادگی اور روانی
مضمون "علامہ اقبال" کی زبان سادہ، شفاف اور رواں ہے۔ چراغ حسن حسرت نے ثقیل الفاظ یا مشکل فلسفیانہ اصطلاحات سے گریز کیا ہے۔ ان کا اسلوب ایسا ہے کہ عام قاری بھی بآسانی مضمون سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ یہی سادگی شخصیت نگاری کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
نتیجہ: شخصیت نگاری اور حسرت کی کامیابی
شخصیت نگاری ایک مشکل مگر نہایت اہم ادبی صنف ہے، جس میں توازن، مشاہدہ اور اسلوب کی پختگی ضروری ہوتی ہے۔ چراغ حسن حسرت نے اپنے مضمون "علامہ اقبال" میں ان تمام تقاضوں کو بخوبی نبھایا ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال کی شخصیت کے ظاہری اور باطنی خدوخال کو نہایت سادگی، احترام اور فنی شعور کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مضمون محض تعارفی تحریر نہیں بلکہ اردو ادب میں کامیاب شخصیت نگاری کی ایک روشن مثال بن چکا ہے۔
تمہید
اردو ادب میں طنز و مزاح ایک ایسی صنف ہے جو بظاہر قہقہے اور مسکراہٹ کا سبب بنتی ہے، مگر اپنی اصل میں گہرا سماجی شعور، فکری آگہی اور انسانی کمزوریوں پر باریک نظر رکھتی ہے۔ سچا مزاح محض ہنسانا نہیں بلکہ سوچنے پر مجبور کرنا بھی ہوتا ہے۔ اردو طنز و مزاح کی روایت میں پطرس بخاری اور مشتاق یوسفی دو ایسے نام ہیں جنہوں نے اس صنف کو فنی بلندیوں تک پہنچایا۔ دونوں کے انداز مختلف ہیں، مگر مقصد ایک ہی ہے یعنی انسانی رویوں، سماجی تضادات اور تہذیبی کمزوریوں کو فنکارانہ انداز میں پیش کرنا۔
اردو طنز و مزاح کی روایت
اردو میں طنز و مزاح کی ابتدا داستانوں اور کلاسیکی نثر میں ملتی ہے، مگر جدید مزاح انیسویں اور بیسویں صدی میں واضح صورت اختیار کرتا ہے۔ ابتدا میں مزاح زیادہ تر لفظی کھیل اور لطیفوں تک محدود تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں سماجی تنقید، نفسیاتی مشاہدہ اور تہذیبی شعور شامل ہوتا گیا۔ پطرس بخاری نے مزاح کو شائستگی اور سادگی دی، جبکہ مشتاق یوسفی نے اسے فکری گہرائی، تہذیبی رمزیت اور فلسفیانہ طنز سے مالا مال کیا۔
پطرس بخاری کا تعارف
پطرس بخاری اردو کے ان مزاح نگاروں میں شامل ہیں جنہوں نے مختصر مضامین کے ذریعے لازوال شہرت حاصل کی۔ وہ بنیادی طور پر ایک تعلیم یافتہ، مہذب اور نفیس ذوق رکھنے والے انسان تھے، جس کا عکس ان کی تحریروں میں نمایاں ہے۔ پطرس نے روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو مزاح کا موضوع بنایا اور انہیں ایسی فنکارانہ مہارت سے پیش کیا کہ وہ اردو ادب کا مستقل حصہ بن گئے۔
پطرس بخاری کے مزاح کی بنیادی خصوصیات
پطرس بخاری کے مزاح کی سب سے نمایاں خصوصیت شائستگی ہے۔ ان کے ہاں نہ فحاشی ہے، نہ تلخی اور نہ ہی ذاتی حملے۔ وہ قاری کو مسکرانے پر مجبور کرتے ہیں، مگر کبھی ذہنی اذیت نہیں دیتے۔ ان کا مزاح نرم، ہلکا اور خوشگوار ہوتا ہے جس میں زندگی کی تلخ حقیقتیں بھی خوش اسلوبی سے بیان کی جاتی ہیں۔
پطرس بخاری کا اسلوب
پطرس بخاری کا اسلوب سادہ، رواں اور گفتگو کے قریب ہے۔ وہ زبان میں کسی قسم کا بوجھل پن یا تصنع پیدا نہیں کرتے۔ ان کے جملے مختصر، برجستہ اور موقع محل کے مطابق ہوتے ہیں۔ محاورات اور روزمرہ زبان کا استعمال ان کے اسلوب کو قدرتی بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مزاح ہر طبقے کے قاری کو متاثر کرتا ہے۔
پطرس بخاری کے مزاح میں موضوعات
پطرس کے مزاح کا دائرہ عام انسانی زندگی تک محدود ہے۔ امتحانات، ہوسٹل کی زندگی، دوستوں کے رویے، سفر کی مشکلات اور روزمرہ کی الجھنیں ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ وہ کسی بڑے فلسفیانہ مسئلے پر براہِ راست بات نہیں کرتے بلکہ عام زندگی کے تجربات کے ذریعے قاری کو مسکرانے کا موقع دیتے ہیں۔
پطرس بخاری کے مزاح کی فنی اہمیت
پطرس بخاری نے اردو مزاح کو وقار عطا کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ مزاح شائستہ بھی ہو سکتا ہے اور بامعنی بھی۔ ان کی تحریریں مختصر ہونے کے باوجود فنی اعتبار سے مکمل ہیں۔ انہوں نے مزاح کو ادب کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مشتاق یوسفی کا تعارف
مشتاق یوسفی اردو طنز و مزاح کا وہ درخشاں ستارہ ہیں جنہوں نے اس صنف کو فکری، تہذیبی اور فلسفیانہ وسعت دی۔ وہ ایک وسیع المطالعہ، گہرے مشاہدے اور اعلیٰ ذہنی سطح کے ادیب تھے۔ ان کی تحریروں میں علم، تجربہ اور ذہانت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
مشتاق یوسفی کے مزاح کی خصوصیات
مشتاق یوسفی کا مزاح سطحی نہیں بلکہ تہہ دار ہوتا ہے۔ ان کے جملے بظاہر سادہ محسوس ہوتے ہیں مگر ان میں کئی معنوی سطحیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ ان کا مزاح قاری کو پہلے مسکراتا ہے اور پھر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ طنز کی کاٹ نرم مگر گہری ہوتی ہے۔
مشتاق یوسفی کا اسلوب
مشتاق یوسفی کا اسلوب نہایت منفرد اور پیچیدہ ہے۔ وہ طویل جملوں، تشبیہوں، استعارات اور علمی حوالوں کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی زبان میں تہذیبی رنگ، کلاسیکی حوالہ جات اور جدید شعور یکجا نظر آتا ہے۔ ان کے ہاں لفظ محض لفظ نہیں بلکہ پورا تجربہ بن جاتے ہیں۔
مشتاق یوسفی کے مزاح میں موضوعات
مشتاق یوسفی کے موضوعات میں انسان کی نفسیات، معاشرتی تضادات، تہذیبی زوال، جدید زندگی کی بے معنویت اور مشرق و مغرب کا تصادم شامل ہیں۔ وہ فرد کے ذریعے پورے معاشرے کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مضامین میں ہجرت، ملازمت، تعلیم اور معاشرتی ریاکاری نمایاں موضوعات ہیں۔
مشتاق یوسفی کے مزاح کی فنی اہمیت
مشتاق یوسفی نے اردو مزاح کو فکری بلندی عطا کی۔ انہوں نے مزاح کو محض تفریح نہیں بلکہ سنجیدہ ادبی اظہار بنایا۔ ان کی تحریریں ادب، فلسفہ، تاریخ اور نفسیات کا حسین امتزاج ہیں، جو اردو مزاح کو عالمی معیار کے قریب لے جاتی ہیں۔
پطرس بخاری اور مشتاق یوسفی کا تقابلی جائزہ
پطرس بخاری اور مشتاق یوسفی دونوں عظیم مزاح نگار ہیں، مگر ان کے مزاح کی نوعیت مختلف ہے۔ پطرس کا مزاح سادہ، براہِ راست اور فوری اثر رکھتا ہے، جبکہ مشتاق یوسفی کا مزاح گہرا، تہہ دار اور دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ پطرس قاری کو ہنساتے ہیں، مشتاق یوسفی ہنسا کر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
زبان اور اسلوب کا تقابل
پطرس بخاری کی زبان عام فہم اور سادہ ہے، جبکہ مشتاق یوسفی کی زبان علمی، علامتی اور تہذیبی حوالوں سے بھرپور ہے۔ پطرس کے ہاں جملے مختصر اور چست ہیں، مشتاق یوسفی کے ہاں طویل اور پیچیدہ مگر بامعنی۔ دونوں اپنے اپنے اسلوب میں کامل ہیں۔
مزاح اور طنز کی شدت
پطرس بخاری کے ہاں طنز کی شدت کم اور مزاح کی نرمی زیادہ ہے۔ وہ کسی کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ انسانی کمزوریوں پر ہلکی سی چوٹ لگاتے ہیں۔ اس کے برعکس مشتاق یوسفی کا طنز گہرا اور معنوی ہوتا ہے جو سماج کی بنیادوں تک اتر جاتا ہے، مگر پھر بھی شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔
ادبی مقام اور اثرات
پطرس بخاری نے اردو مزاح کو عوامی مقبولیت دی اور اسے شائستہ تفریح کا درجہ دیا۔ مشتاق یوسفی نے اردو مزاح کو فکری اور ادبی وقار عطا کیا۔ دونوں نے آنے والی نسلوں کے لیے اعلیٰ معیار قائم کیا اور ثابت کیا کہ مزاح بھی سنجیدہ ادب ہو سکتا ہے۔
نتیجہ
پطرس بخاری اور مشتاق یوسفی اردو طنز و مزاح کے دو روشن مینار ہیں۔ پطرس بخاری کا مزاح سادگی، شائستگی اور لطافت کا نمونہ ہے، جبکہ مشتاق یوسفی کا مزاح فکری گہرائی، تہذیبی شعور اور معنوی وسعت کا آئینہ دار ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے انداز میں اردو ادب کو مالا مال کیا اور ثابت کیا کہ قہقہے کے پیچھے بھی سنجیدہ فکر پوشیدہ ہو سکتی ہے۔
آپ بیتی کیا ہے؟
آپ بیتی ادب کی ایک اہم اور دلچسپ صنف ہے جس میں کوئی شخص اپنی زندگی کے حالات، تجربات، کامیابیاں، ناکامیاں، احساسات اور یادگار واقعات خود بیان کرتا ہے۔ لفظ “آپ بیتی” دو الفاظ “آپ” اور “بیتی” سے مل کر بنا ہے جس کا مطلب ہے وہ کہانی جو کسی انسان پر خود گزری ہو۔ اس میں مصنف اپنی زندگی کے حقیقی واقعات کو اپنی زبان میں بیان کرتا ہے تاکہ قاری اس کے حالات اور تجربات سے آگاہ ہو سکے۔ آپ بیتی میں سچائی، سادگی اور خلوص بنیادی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ اس میں خیالی باتوں کے بجائے اصل زندگی کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی زندگی کی کہانی لکھتا ہے تو وہ اپنے بچپن، تعلیم، مشکلات، جدوجہد اور کامیابیوں کا ذکر بھی کرتا ہے۔ اس طرح قاری کو نہ صرف ایک انسان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا علم ہوتا ہے بلکہ اسے زندگی کے اہم اسباق بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ادب میں بہت سی مشہور شخصیات نے اپنی آپ بیتیاں لکھیں جن سے لوگوں کو حوصلہ، رہنمائی اور سبق ملتا ہے۔
آپ بیتی کے بنیادی لوازم
ایک اچھی آپ بیتی لکھنے کے لیے چند اہم باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ سب سے پہلی چیز سچائی ہے کیونکہ آپ بیتی کا بنیادی مقصد اپنی زندگی کے اصل واقعات کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ اگر بیان میں سچائی نہ ہو تو آپ بیتی کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ دوسری اہم چیز سادہ اور واضح اندازِ بیان ہے تاکہ قاری آسانی سے واقعات کو سمجھ سکے۔ مصنف کو چاہیے کہ وہ اپنے حالات اور تجربات کو اس طرح بیان کرے کہ پڑھنے والے کو دلچسپی بھی رہے اور بات بھی واضح ہو۔ تیسری اہم بات واقعات کی ترتیب ہے۔ آپ بیتی میں عام طور پر زندگی کے واقعات کو زمانی ترتیب کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، مثلاً بچپن، تعلیم، جوانی اور بعد کے حالات۔ اس سے قاری کو کہانی سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ایک اور ضروری عنصر ذاتی احساسات اور جذبات کا اظہار ہے کیونکہ یہی چیز آپ بیتی کو زندہ اور مؤثر بناتی ہے۔ جب مصنف اپنے دکھ، خوشی، امید اور مایوسی کو سچائی کے ساتھ بیان کرتا ہے تو قاری اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ بیتی میں غیر ضروری تفصیلات سے پرہیز اور اہم واقعات پر توجہ دینا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ تحریر بامعنی اور دلچسپ رہے۔
آپ بیتی کا نمونہ
میری زندگی کا ایک یادگار واقعہ اس وقت پیش آیا جب میں طالبِ علم تھا۔ اس زمانے میں ہمارے گھر کے حالات زیادہ اچھے نہیں تھے اور تعلیم حاصل کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ میں روزانہ صبح جلدی اٹھ کر اسکول جانے کی تیاری کرتا اور کئی میل پیدل چل کر اسکول پہنچتا تھا۔ راستے میں کبھی دھوپ کی شدت ہوتی اور کبھی بارش کا سامنا کرنا پڑتا، مگر میرے دل میں تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ بہت مضبوط تھا۔ میرے والد ہمیشہ مجھے محنت اور دیانت داری کی نصیحت کرتے تھے اور یہی باتیں میرے لیے حوصلے کا باعث بنتی تھیں۔ ایک دن اسکول میں سالانہ امتحان کا نتیجہ اعلان ہوا تو مجھے اپنی جماعت میں پہلی پوزیشن حاصل ہوئی۔ یہ خبر سن کر مجھے بے حد خوشی ہوئی اور میں فوراً گھر پہنچ کر یہ خوشخبری اپنے والدین کو سنائی۔ میرے والد کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور انہوں نے مجھے گلے لگا کر دعا دی۔ اس دن مجھے یہ احساس ہوا کہ محنت کبھی ضائع نہیں جاتی اور انسان اگر سچے دل سے کوشش کرے تو کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے۔ اس واقعے نے میری زندگی میں ایک نیا حوصلہ پیدا کیا اور میں نے عزم کیا کہ ہمیشہ محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھتا رہوں گا۔
▶





